با فرمائش - گیلانی صاحبان | قسط نمبر 3

با فرمائش ۔۔۔حنیف زاہد ۔علی احمد طاہر ۔احسن مجید۔سید حسین علی گیلانی صاحبان

امان اللہ ہمارا پورٹر تھا جو ہمارے ساتھ تھل یا تل سے گیا تھا اور جس کا نمبر سید حسین علی گیلانی صاحب نے بھیجا تھا ہم رات کو ٹینٹ میں دبک کر سو گیے مگر وہ ٹینٹ کے باہر ہی محو استراحت تھا غائب تھا ۔۔۔سارے دوست اٹھ گیے سواۓ افتخار وڑائچ کے جس طبیعت کچھ ناساز تھی ۔۔۔۔۔۔۔

ایسے میں ہم سب دوستوں کی ایک خامی ہے کہ ہم اللّه تعالیٰ کی بنائی ہوی چیزوں جنگل پہاڑ دریا پھولوں کلیوں پے تو سب فریفتہ ہوئے جا رہے ہوتے ہیں سب اس ذات اس رب العالمین کی ذات کی کاریگری کے دلدادہ دکھائی دیتے ہیں مگر بہت لازمی چیز نماز پڑھنا بھول جاتے ہیں

صبح صبح کوئی برش کر رہا ہے کوئی شیو بنا رہا ہے کوئی فیئر اینڈ لولی لگا رہا ہے تو کوئی اپنے چہرے پر اگنے والے فالتو بالوں کی بیخ کنی میں مصروف نظر آیا کوئی ہاتھ میں پانی کی بوتل کوئی لوٹا تھامے جنگل کی طرف جاتا دکھا تو کوئی دریا کے ٹھنڈے ٹھار پانی سے منہ ہاتھ دھونے کے واجبات پورا کرتا دکھائی دیا ۔۔۔

ادھر امان اللہ گھنے جنگل کے بیچ میں سے اپنی مادری زبان میں کچھ گنگناتا اٹکھیلیاں کرتا نمودار ہوا ایک ہاتھ میں دودھ سے بھرا برتن اور دوسرے میں لسی سے لبریز ایک بوتل تھی۔ اس کے ساتھ کچھ مقامی لوگ تھے جو شاید اس کے دوست تھے۔۔ ۔ ۔ ۔دودھ اور لسی ہمارے حوالے کی اور خود دریا پر ٹراؤٹ پکڑنے کیلئے چلے گیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر دفعتاً میرے کانوں کے پردوں نے کسی مدھر کسی نشیلی آواز کو سنا ۔۔۔۔

یہ ایک چڑیا یا کوئی جنگلی پرندہ تھا جو پیار کا گیت الاپ رہا تھا موسیقی کے تمام رموز سے واقف، اس کی آواز میں ترنم اور مٹھاس کی بھرپور لے تھی اس کی آواز درختوں کے جھنڈ کے بیچوں بیچ ہوا کے دوش پر تیرتی مجھ ٹک پہنچ رہی تھی یوں لگا جیسے دور پہاڑوں کے آنگن میں کوئی عاشق اپنی محبوبہ کی یاد کی تسبیح گنگنا رہا ہو اس کی آواز مترنم اتار چڑھاؤ کی لے سے لبریز تھی ایک نہایت ہی خاص ترتیب سے آواز اوپر کو جاتی پھر اسی ترنم اسی نغمگی اسی سحر انگیزی کو برقرار رکھتے ہوئے نچلی سروں پر رقص کناں ہو جاتی سروں کی بندش میں ایسی کمال مہارت کہ مجال ہے جو کوئی سر ادھر سے ادھر ہو جاۓ

سا رے گا ما پا دھا نی سا 

رے گا ما پا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سا رے گا ما پا دھا نی سا 

رے گا ما پا ۔۔۔۔۔۔۔

کا راگ اس کے شیریں اور لطافت سے بھرپور گیت اس کے گلے سے جلترنگ بجا رہا تھا موسیقی کے میٹھے اور مدھر رازوں کو چھیڑ رہا تھا ۔

میں نے اپنا رخ اس آواز کی طرف کیا پھر اٹھ کر اس کی طرف چل دیا میں آگے آگے بڑھتا گیا اور وہ آواز اور میٹھی اور واضع اور مزیدار ہوتی گیئ پھر اچانک وہی آواز مجھے دریا کی جانب سے سنائی دی اسی جگہ کی طرف جہاں پرعلی الصبح میں نے جاگتی آنکھوں سے ایک سراپا حسن ایک سراپا نور مہ جبیں کا دیدار کیا تھا میں واپس مڑا اور اس جگہ جا پہنچا۔

سورج کی سنہری کرنیں پہاڑوں کی چوٹیوں کو روشن کر رہی تھیں مگر نیچے ویران گھنا جنگل ۔۔۔دریا کنارہ ۔۔۔اس کے پانی سے نبرد آزما ایک سوکھے درخت کا مردہ جسم ۔۔

دریا کی لہریں اس سے ٹکراتی اس کو بھگو کر نہلا کر آگے گزر جاتیں مگر وہ بے جان لاشہ وہیں پڑا اپنی عاقبت کی گھڑیاں گزار رہا تھا ۔

میں اس کی طرف اس کے قریب گیا ۔۔۔!وہی مشک ختن فضا کو معطر کر رہی تھی ۔وہی موسیقی کی لے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔

وہی پانی کی روانی وہی آواز ہواؤں میں تیرتی گوش گزار تھی۔ وہی جادو سر پر چڑھ کر بول رہا تھا۔ وہی پانی اپنی رو میں بہہ کر کسی انجانی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ دور ۔۔۔دریا کنارے ایک شخص اپنے پالتو جانوروں کو ہانکتا ۔۔۔۔ہونکتا ہوا ان کے پیچھے پیچھے چلا جا رہا تھا۔اندھیارے کے بادل چھٹ رہے تھے ۔۔۔۔

روشنی کی سفید چادر تمام وادی پر بچھی جا رہی تھی۔ وہ جو سورج کی کرنیں کچھ دیر قبل تک پہاڑوں کی چوٹیوں پر ہی براجمان تھیں پوری وادی میں پھیل رہی تھیں۔ ایک نئی نویلی ۔۔ایک صبح نو کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ پھر پوری وادی سورج کی کرنوں سے بقعہ نور بن گئ ۔۔۔مگر وہ شوخ چنچلوہ مہ رو پری زاد نظر نہ آئ ۔۔۔

میری آنکھیں چاروں اطراف جنگل میں پہاڑوں میں ہوا کے دوش پر ۔۔۔درختوں کی چوٹیوں پر پڑتی کنواری کرنوں میں اس کی متلاشی رہیں۔ میرے دل کی یادوں میں کھلے پھولوں اور اس کی پتیوں میں اس کی خوشبو اب بھی بسی ہے۔ میرا دل اب بھی اس کی یاد کی راگنی گا رہا ہے ۔۔

نسیم صبح اتنا تو ذرا انھیں بتا دینا 

لبوں پہ جان ہے صورت ذرا دکھا دینا

(تحریر: خالِد حُسین)

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.