بمقام دو جنگہ کے قریب وادی کمراٹ کا جنگل | قسط نمبر 2

اب اگلا مرحلہ ٹینٹ لگانے اور آگ جلانے کا تھا ارشاد بھائی اور حنیف بھائی چونکہ اچھے کک ہیں لہٰذا انہوں نے اپنی ڈیوٹی سنبھالی آگ کا مچ جلایا اور چاول پتیلی میں ڈال کر پکنے کے لئے آگ پر رکھ دئے۔ ڈاکٹر شاہد صاحب کی ہدایت کے مطابق ٹینٹ لگانا شروع کر دئے گیے میاں ارشد ساجد اقبال افتخار ورائچ قاسم سلدیرا اور میاں صابر نے یہ کام 10 یا 15 منٹ کی قلیل مدت میں سر انجام دے دیا

انتہائی اونچے اونچے چیڑ دیار اور پڑتل کے درختوں کے درمیان ٹینٹ لگے تو ایک نیا رنگین منظر ابھر آیا شام سرمئی ہو گیئ ابھی شام کے ساڑھے پانچ یا چھ بجے ہوں گے کہ اندھیرا چھانا شروع ہو گیا ایک طرف اونچے اونچے سر سبز درخت اور دوسری جانب چاروں طرف اونچے اونچے پہاڑوں کی دیواریں سورج کی کرنوں کو یہاں آنے سے روک رہیں تھی یا پھر یہ خاص انتظام اس جنت الفردوس وادی کی باسی پریوں اور حوروں کو ہماری دزدیدہ نگاہوں سے بچانے کے لئے کیا جا رہا تھا۔

آخر یہ پردہ داری کس لئے۔ شام جلدی اتر آئ ،سیاہی چھانے لگی ،سورج دور افق میں کہیں ڈوبنا شروع ہو گیا۔ پھر ارشاد کی آواز آئی لو جی چاول پک گیے ہیں کھا لو۔ ادھر مناظر کچھ ایسے دل موہ لینے والے تھے کہ میرا جی تو ان کو دیکھ دیکھ کر مچل رہا تھا بھوک سرے سے غائب ہو گیئ دماغ میں وہی پانی کی اٹکھیلیاں چل رہی تھی۔ وو درختوں کے جھنڈوں کی با ادب پوزیشن گھوم رہی تھی وہی خوشبوئیں میرے دماغ میری روح کو معطر کر رہی تھیں۔

میں تو ٹینٹ میں دبک کر سو گیا مگر میری روح پہاڑوں میں بھٹکتی کسی اور منظر کسی اور دنیا کی متلاشی رہی۔ رات کے تقریباً 2 بجے میری آنکھ کھل گیئ میں ٹینٹ سے باہر آ گیا کیا دیکھتا ہوں۔ چاند اپنے پورے جوبن پر آسمان پر جگمگا رہا ہے اس کی چاندنی درختوں کے پتوں سے چھن چھن کر زمین پر برس رہی ہے ساری وادی دودھ سے نہا گیئ ہے ہر طرف سفید چاندی کی چادر ہے جس نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے دھیمی دھیمی ہوا چل رہی ہے پانی کی روانی اور ہوا کی سبک رفتاری سے ایک انوکھی موسیقی کی دھن پیدا ہو گیئ ہے جو میرے انگ انگ میں سما رہی ہے میرے کانوں میں رس گھول رہی ہے میری روح میرا جسم کسی تان سین کی صداؤں میں ڈوب کر نہا گیا ہے میری سانسیں دھمال ڈال رہی ہیں میرا دل ناچ رہا ہے میرے ہوش و حواس پر کسی اجنبی روح کا قبضہ ہو گیا ہے میں اپنی ذات کی قید سے نکل کر کسی اور جہاں کسی اور دنیا کسی اور نگر کا باسی ہو گیا ہوں۔

پھر اچانک دریا کی موجوں میں تلاطم آ گیا چاند قریب سا لگنے لگا روشنی پھیلنے لگی ہوا کی رفتار میں ذرا تیزی آ گئی۔ پھر اچانک چاندی سا بدن کہ جس کی زلفیں سر سے پاؤں تک پھیلی ہوئی تھیں نمودار ہوا نیم برہنا حالت میں دعوت نظارہ دے رہا تھا۔ چاند کی دودھیا چاندنی میں نہائے صاف شفاف نیلے پانی کے چھینٹے اس کے نازک بدن پر گر رہے تھے غزالی آنکھوں میں شراب کی سی مستی چاندی سا بدن دراز گیسو صراحی گردن مست ادائیں.

چلے تو یوں لگے کہ وقت تھم سا گیا ہو رکے تو زمانہ چل پڑے ہر ادا جان لیوا. بال پھیلائے تو اندھیرا چھا جاۓ جھیل سی گہری آنکھوں سے شراب کے قطرے گر رہے تھے جو کسے پیاسے بدن کا اشارہ دے رہے تھے. جب چلے تو اس کے پاؤں کی جھانجھر کی صدا دور پہاڑوں سے ٹکرا ئے تو عجب نغمگی اور مستی پھیل جاۓ سارا عالم مستی میں ڈوب جاۓ سفید گورا بدن اس پے سیاه دراز گیسو ۔۔. سبحان اللّه کیا نظارہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ لچکیلا نازک اندام بدن پتلی کمریا بانہوں میں گجرے مانگ میں پھولوں کی بہار شوخ چنچل ادائیں ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گالوں سے اناری شربت کے قطرے گرتے ہوئے ۔ ۔ ہونٹوں پے انگوری پانی کے تیرتے قطرے ۔۔ آنکھوں میں بلا کی مستی ۔۔۔ چہرہ ایسا کہ نگاہ نہ ٹک پاے ۔۔۔۔۔خوب صورتی ایسی کہ بنانے والے کی کاریگری پے رشک آے ۔۔۔ چال ڈھال میں ایسی روانی کہ انسان تو کیا فرشتہ بھی بھٹک جاۓ.

اس نظارے سے کیا بچے کوئی جو نگاہوں سے خود لپٹ جاۓ. میں اس منظر میں گم کسی اور جہاں کسی اور دنیا کا مسافر، پھراچانک سارا منظر تبدیل ہو گیا سب جادو اتر گیے ساری مستی جاتی رہی سارا نشہ کافور ہو گیا۔ میں آنکھیں بند کیے بڑی دیر ٹک اس پری وش کے انتظار میں آگ کے الاؤ کے پاس بیٹھا رہا مگروہ اگر جا بھی چکی ہے تو مت کھول آنکھیں ابھی محسوس کیے جاؤ رفاقت اس کی۔

(تحریر: خالِد حُسین)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.