بمقام کمرات ویلی - قسط نمبر6

بمقام ۔۔کمرات ویلی
بفرمائش ۔۔احسن مجید حنیف زاہد ساجد اقبال لطیف خلجی شہزاد منور علی احمد طاہر سید حسین علی گیلانی شیراز احمد ڈاکٹر شاہد اقبال ڈاکٹر ستار صاب ارشاد ممتاز اعوان عبد المنان اور بہت سارے پیارے دوست واپس آ کر سامان جیپ پر کس کس کے باندھا۔ ۔ آخر اوبڑ کھوبڑ راستے۔۔۔ ناہموار راستے ۔۔بڑے بڑے پتھروں سے اٹے راستے سے گزرنا تھا۔ اتنی دیر میں چاۓ تیار ہو گیئ سب نے چاۓ پی بسکٹ کھاۓ اور چل دئے اس مے کدے میں جام پے جام پینے۔
پہلے ٹینٹ ویلج کے بعد دوسرا ٹینٹ ویلج آیا پھر تیسرا نمودار ہوا ۔۔درختوں کے بیچوں بیچ ۔۔چشموں میں سے گزرتے ۔۔چھوٹے چھوٹے ندی نالوں میں سے گزرتے ۔۔دریا کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے جا رہے تھے ۔۔آگے کھلی وادی میں آلو کی فصل کاشت کی ہوئی تھی رنگ برنگ آلو کے کھیت کسی میں بڑے پودے جن پر پھول بھی لگے تھے تو کسی میں کیاری میں چھوٹے چھوٹے پودے اور کسی کیاری میں تو ابھی اگ رہے تھے ۔۔۔۔
دونوں اطراف میں جنگل ۔۔چیل اور دیار کے اونچے اونچے گھنے جنگلات ۔۔آسماں کی بلندیوں کو چھوتے ۔۔دریا کا کنارہ ۔۔۔آلو کی فصل ۔۔پہاڑوں کی برفیلی چوٹیاں ۔۔بیچ میں سے بہت خوب صورت بل کھاتا راستہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کسی ایک جگہ رک کر اپنی آنکھیں بند کر کے کسی بھی طرف منہ کر کے کیمرے کا شٹر دبا دیں انتہائی خوب صورت تصویر بن جاۓ گی۔ اگر قدرت کی مہربانی حسن کی فراوانی اور دریا کی نشیلی روانی  دیکھنی ہو تو کمرات تشریف لے جایئں۔ آنکھیں دیکھ رہی ہیں مگر دل ان پر اعتبار نہیں کر رہا ۔۔۔۔۔یوں لگ رہا ہے کہ کسی نے کوئی پینٹنگ بنا کر اس میں انتہائی دلفریب رنگ بھر دئے ہیں ۔۔ہر چہار سو خوب صورتی کے انبار ۔۔اتنا خوبصورت کے برداشت سے باہر ۔۔کم از کم مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ دل تھا کہ آنکھوں پر اعتبار ہی نہیں کر رہا تھا ۔ اتنا خوب صورت ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔
دل ہے کہ مانتا نہیں۔ آنکھیں اپنی بصارت اپنی دیدنی کی پختگی پر بضد ۔۔۔ اے خدایا کہاں جاؤں ؟ پھر میرے دماغ کے پردے پر قرآن پاک کی وہ آیت چل پڑی۔

" اور تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے "

ایک بار نہیں بلکہ بار بار یہ آیت مبارکہ دہرا دہرا کر انسانوں کو یقین دلایا جا رہا ہے نعمتوں کو شمار کر کر کے بیان کیا جا رہا ہے ۔۔۔
لوگو یقین کر لو ۔۔یہ سب نعمتیں تمہارے لئے ہیں ۔۔۔آخر تم یقین کیوں نہیں کرتے۔ ایسے ہی وادی کی دلکشی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی
دل کو عجب بے چینی اور بے یقینی کی طرف دھکیل رہی تھی۔ آنکھیں خوب صورت اور حسین و جمیل مناظر دکھا رہی ہیں اور دل ہے کہ مانتا ہی نہیں۔

" ہو ہی نہیں سکتا ایسی خوب صورتی اور دلکشی تو صرف خوابوں میں خیالوں میں اور سوچوں میں ممکن ہے حقیقت سے تواس کا دور دور تک کوئی تعلق ہو ہی نہیں سکتا "

اسی کشمکش کے دوران ہم ایک اور جنگل ایک اور ٹینٹ سٹی ایک اور جنت کدہ داخل ہو گیے۔ ایک بہت بڑی آبشار ۔۔۔۔۔۔دور افق سے کسی ساتویں آسمان کی جنتوں سے نیچے کی طرف اس جنت ارضی کے باسیوں کے لئے گرتی چلی آ رہی تھی۔ مسلسل گرتا نیلگوں سفید پانی ایک پھنکارتا اژدھا۔ دودھیا رنگ کے چھینٹے اڑاتا ۔۔اپنی مستی میں مدہوش ،اپنی دھن میں مگن ارد گرد کے ماحول سے بے خبر پہاڑ کے پتھروں سے سر ٹکراتا، پھسلتا جا رہا تھا۔
دریا کی جانب دوڑتا چلا جا رہا تھا اپنی ہستی اپنے وجود کا خاتمہ کر کے دریا کا حصہ بنتا جا رہا تھا۔ مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے،کا درس دے رہا تھا۔
قربانی اور ایثار کے جذبہ سرشاری کا درس یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اللّه جلہ شانو ہو نے اوپر ساتویں آسمان سے ایک جنتی شیریں دودھ کی نہر اپنے کسی فرہاد کی مدد کے لئے نکال بھیجی ہے تا کہ وہ اپنی کسی شیریں کو رام کر سکے۔ ایک یخ بستہ ٹھنڈا ٹھار مسلسل گرتا پانی ایک چاندی چمک دودھیا سفید اب رواں ذات کبریا کی کبریائی کے گن گاتا،اس کا ورد کرتا،زمینی پتھروں کو چومتا، سجدہ ریزی کرتا،گرتا ہی جا رہا ہے ۔
اے لوگو تم بھی اس ذات کے آگے جھکو ۔۔اس کو بڑا مانو ۔۔اسی کو بڑا جانو ۔۔۔بیشک وہی اللّه سب سے بڑا ہے ۔ ۔ ۔ وہی تو پہاڑوں کی سگلاخ چٹانوں کے۔بڑے بڑے مہیب پتھروں کے سینے چیر کر تمہارے لئے پانی نکال بھیجتا ہے۔ پانی کے نت نئے سوتے ترتیب دیتا ہے۔ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
یہاں پر بھی درختوں کی بےدریغ کٹائی کی زبوں حالی اپنی داستان سنا رہی تھی جگہ جگہ درختوں کے بچے کھچے آثار ہمارا منہ چڑا رہےتھے۔ پھر بھی منظر دلکش تھا۔ ہمارے دو ساتھی قاسم اور حنیف پیچھے رہ گئے تھے ان کی بائیک پنکچر ہو گئ تھی۔۔
سڑک کنارے بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے لگے۔ جب کافی دیر تک وہ نا آے تو ہمیں ذرا تشویش ہونا شروع ہو گیئ ۔۔امان اللہ کو ان کی خبر گیری کے لئے بھیجا تو پتہ چلا کہ انہوں نے بائیک کی ٹیوب کو وہاں پہ پنکچر لگا دیا ہے جہاں سے وہ پنکچر تھی ہی نہیں ۔۔۔اور پنکچر شدہ حصہ پر اب دوبارہ پنکچر لگا رہے ہیں ۔۔
اب ہم بات کریں گے تو شکایات ہو گی👍😭😍

کچھ یادیں

بمقام کمرات ویلی - قسط نمبر6

تحریر: (خالِد حُسین)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.