بمقام کمرات ویلی - قسط نمبر5

بافرمائش۔۔۔۔۔۔۔میرے چند دوست جگر۔۔۔۔جن کے بغیر میری زندگی لا حاصل ہے ۔۔۔جن کی محبت میرا اثاثہ ہے۔ صبح کی سہانی دیوی نے اپنی ریشمی زلفیں پھیلا دیں۔ کن آنکھیوں سے سورج کی نوزائدہ کرنوں نے جھانکنا شروع کر دیا۔ اپنی شربتی آنکھوں والی پہلی نگاہ جب وادی پر ڈالی تو ساری وادی نشیلی ہو گئی پر کیف اور مستی میں ڈوب گئی۔ بے رنگ ماحول میں رنگ بھرنے لگے۔ رنگوں کی بہار آنے لگی۔ بے مزہ سے ماحول میں شرینی لطافت اور مٹھاس کی آمیزش ہونے لگی۔ پوری وادی اپنی ساحرانہ ادائیں دکھلانے لگی۔

اس نے اپنا سیاه لبادہ اتار پھینکنا شروع کر دیا۔ سبز و سرسبز درختوں کے جھنڈ ۔۔۔دریا کا نیلا سلیٹی پانی۔ آنکھوں کو طراوت بخشنے لگے۔ نیچے دریاۓ پنجکوڑہ کا آوارہ ٹھنڈا ٹھار پانی۔ بہت آہستگی سے۔ بنا شور کیے سکون سے گزر رہا ہے۔ امن اور شانتی کا پیغام دے رہا ہے اور اوپر سورج کی دوشیزہ کرنیں ۔۔۔۔ارد گرد کے پہاڑوں اور چوٹیوں پر اپنا تسلط جما رہی ہیں۔ اور پھرآھستہ آھستہ پوری وادی کے پہاڑوں جنگلوں اور مرغزاروں پر اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ دیئے۔

سورج کی کرنیں دریا کے پانی کی لہروں سے ٹکراتیں، ۔ٹمٹماتیں ،اور موتی بکھیرنے لگیں۔ ایسا جان لیوا نظارہ لولو سر جھیل کے پانیوں میں بھی دیکھنے والا ہوتا ہے۔ ایک صاف شفاف خوب صورت اور اجلی صبح نو کا آغاز ہو گیا۔ چاروں اور چیل کے گھنے اور گھٹا ٹوپ جنگل کے درمیان دریا کا سلیٹی دوڑتا پانی ،روشنی امید اور زندگی کی علامت بن گیا ۔

وادی پے بہار آ گئی روشنیوں کی برسات ۔۔۔۔ نور کی برسات بن گیئ۔ لوگ اپنے اپنے ٹینٹوں سے باہر نکل آئے ۔۔۔میرے ساتھی بھی جاگ اٹھے ۔باری باری سب دریا کنارے آ گیے فوٹو گرافی شروع کر دی۔ کسی نے دریا کے ٹھنڈے ٹھار پانی سے منہ ہاتھ دھونے کا تردد کیا تو کسی نے دل ہی دل میں اپنے دل کو تسلی دی کہ شیراں دے منہ تے دھوتے ہی ہوندے آ۔ ٹینٹ جا کر کسی نے جرسی پہنی تو کسی نے ہڈ۔

کسی نے لونگ کوٹ تو کسی نے اوور کوٹ زیب تن کر لیا۔ کسی نے مفلر سے سر اور کانوں کو ڈھانپا تو کسی گرم جرابیں پہن لیں۔ میں میاں ارشد اور ساجد اقبال نے جوگر پہن کر ان کے تسمے پورے زور سے کس لئے،اتنے میں ڈاکٹر صاحب بھی جاگ گیے۔ دریا پر آے دریا کو دیکھا،دریا کی لہروں کو دیکھا،پھر دریا کی روانی کو دیکھا۔ بولے! چلو ۔ دریا کے پانی میں سے گزر کر دریا کی دوسری سمت چلتے ہیں وہاں👈

لو جی،جوگرز کو اتارا ۔۔۔جرابیں اتاریں۔۔اور سب دریا کے ٹھنڈے اور یخ بستہ پانی میں داخل ہو گیے۔ ہم بورے والا وہاڑی کی گرم ہواؤں کے تھپیڑے کھانے کے عادی ۔۔۔۔مگر یہاں تو اس کے برعکس تھا۔ بالکل الٹ تھا۔

انتہائی ٹھنڈا پانی

ٹھنڈا ٹھار یخ بستہ پانی

ایسے پانی سے چیخیں نکل آئیں۔۔ہم ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے چل رہے تھے شور مچا رہے تھے ۔۔چیخ رہے تھے اور ایک دوسرے کوتھاما بھی ہوا تھا۔ ایک دوسرے کو پتھروں پر صحیح طریقے سے پیر رکھنے کے طریقے بھی سمجھا رہے تھے ۔ابھی چند قدم ہی چلے ہوں گے کہ پاؤں ٹھٹھر کر سن ہو گیے ۔۔پانی مزید گہرا ہوتے ہوتے گوڈوں تک آ پہنچا۔ میاں صابر ۔۔بے چارہ ۔۔ ننھی منی سی جان ۔۔۔ننھے منے سے پاؤں ٹھنڈے ٹھار پانی سے سکڑ کے اور منے ہو گیے۔

میں نے پوچھا ۔۔۔۔۔میاں تیرے پیر ؟

کہنے لگا۔۔۔ایک تو ہے میں نے ابھی ابھی دیکھا ہے دوسرے کا پتہ نہیں۔ سن ہو جانے کی وجہ سے پتھر اب چبھنا بند ہو گیے تھے یا یا چبھن کا احساس ختم ہو گیا تھا ۔۔۔اللّه اللّه دوسرے پار جا پہنچے ۔۔تو میاں نے آواز دی۔ میرا دوسرا پاؤں بھی ساتھ ہی ہے۔دریا کنارے نیم گرم پتھر اب بہت آرام دہ لگ رہے تھے ۔دھوپ سینکنے میں بڑا مزہ آ رہا تھا ۔۔دوسری جانب جا کر وادی کا حسن مزید فریفتہ کر رہا تھا۔خوب صورت درختوں کے جھنڈ میں لگے رنگ برنگے خیموں کا درشن ایک قوس قزح بن گیا تھا۔ ۔ہر طرف رنگ ہی رنگ۔

ست رنگی درشن ۔۔۔۔بلکہ کئی رنگ درشن بن گیا ۔۔۔

میں نے اس سے پہلے بھی ٹھنڈے ٹھار اور پتھروں والے پانی سے گزرنے کا تجربہ جھیل سیف الملوک پر کیا تھا جب ہم نے اس کے ارد گرد پیدل ٹھنڈے اور برف پانیوں سے گزر کر جھیل کا چکر لگایا تھا۔

میں نے اپنے جوگر نہیں اتارے تھے ۔۔۔۔۔

جوگرز سمیت ان ندی نالوں کے برف زار چوٹیوں پر سے آنے والے یخ بستہ پانیوں کو کراس کیا تھا میرے ساتھیوں نے اپنے جوتے اور جوگرز اتار کر ہاتھوں میں پکڑ لئے تھے مگر میں نے ایسا نہیں کیا تھا۔

جوگرز تو گیلے ہو گیے مگر میں پتھروں کی چبھن اور یخ پانی کے ڈنک سے محفوظ رہا تھا۔میں نے یہاں پر بھی ربڑ کے سلیپر پہن لئے جو مجھے ٹھنڈے پانی کی کاٹ سے محفوظ تو نہ رکھ سکے مگر پتھروں کی چبھن سے بچ گیا

دل تو بچہ ہے جی۔۔۔۔

ہر انسان کے دل میں ایک بچہ پرورش پا رہا ہوتا ہے۔ پروان چڑھ رہا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ بچہ زد کر جاتا ہے۔ کبھی انوکھی فرمائش کر دیتا ہے۔ کبھی کبھار نامواقف اور نامساعد حالات کے باوجود کھیلنے کی زد کر لیتا ہے۔ زمین پر پاؤں پسارے، مٹی اور دھول میں اپنی ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر اپنی زد کو منوانے پر بضد دکھائی دیتا ہے۔

کبھی کبھی تو انوکھا لاڈلا کھیلن کو چاند مانگ لیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے اندر کا بچہ تو کچھ زیادہ ہی لاڈلا ہے اس کی فرمائش اور لاڈ بھی انوکھے ہیں یوں لگتا ہے کہ یہ ہمارے اندر کے بچے کو خراب کر دے گا۔ مگر! مزہ تو اکثر و پیشتر ان ہی کاموں میں آتا ہے جو لاڈلے بچے کے کہنے پر کئے جاتے ہوں۔

کیونکہ وہ کام معصومانہ ذرا ہٹ کے ۔۔انوکھے قسم کے ہوتے ہیں۔ جتنا مزہ دریا کے ٹھنڈے ٹھار پانی میں سے گزر کر ۔۔۔۔ پھسلتے چبھتے پتھروں پر سے گزر کر آیا شاید اتنا مزہ ادھر ہی اپنے ٹینٹ میں بیٹھ کر یا دریا کنارے کھڑے ہو کر نہ آتا۔

سچ کہا کسی نے ۔۔۔

بچے من کے سچے۔۔۔

یوں یہاں پر ہمارا من کا بچہ سچا ثابت ہوا

(تحریر: خالِد حُسین)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.