بمقام کمرات ویلی - قسط نمبر 7

بفرمائش ۔۔۔حنیف زاہد۔ ڈاکٹر شاہد اقبال۔ سید حسین علی گیلانی۔علی احمد طاہر۔ ساجد اقبال۔ ارشاد ممتاز اعوان احسن مجید۔ عبد المنان۔ میاں ارشد۔ میاں صابر میاں یٰسین ڈاکٹر عامر ستار اور بہت سارے دوسرے دوست وادی کمرات وہ مے کدہ ہے کہ جس میں آپ داخل ہو جایئں تو نشہ خود بخود آپ کو چڑھنا شروع ہو جاتا ہے جوں جوں آپ اس مے کدے کے اندر آگے بڑھتے جاتے ہیں نشہ مزید گہرا ہوتا جاتا ہے آپ کسی اور دنیا کسی اور جہاں کے باسی بنتے جاتے ہیں بن پئے چڑھنے والی اس مے کا نشہ آھستہ آھستہ آپ کے جسم آپ کی روح اور آپ کے تمام اعصاب پر قبضہ جما لیتا ہے۔ ہم بھی آگے بڑھے تو خوب صورتی اور بڑھ گیئ درخت اور گھنے ہو گیے نشہ اور بڑھ گیا خماری اور چڑھ گیئ ۔۔

آگے کچھ فاصلے پر کچھ نودولتیے اپنی اپنی بڑی جیپوں کے ساتھ دریا کے اندر موجود تھے یہ کسی ایڈونچر کلب کے ممبر تھے یہ لوگ اپنی اپنی جیپوں کو دریا کے پانیوں میں سے گذارتے اور جب کسی کی جیپ گہرے پانی میں پھنس جاتی تو دوسری جیپوں کی مدد سے اس جیپ کو باندھ کر باہر نکالتے۔ ہم بھی کچھ دیر کے لئے یہاں رکے ان کی اس ایڈونچرنیس کو بغور دیکھا یہاں چاروں اور جنگل بہت گہرا ہے اتنا گہرا کہ سیاه نظر آنے لگا۔ بجاۓ سبز رنگ کے سیاہی جھلکنے لگی ۔۔گھٹا ٹوپ جنگل کا سماں لگنا شروع ہو گیا ان جیپوں کی چیخ و چنگھاڑ خاموشی اور سکوت کا حصار توڑ رہی تھی۔ پن ڈراپ سائلینس کی شرینی و لطافت سے لبریز شہد میٹھی مٹھاس کو زہر آلود کر رہی تھی مگر یہ تمام لوگ اپنی دھن میں اپنی لے میں مگن ۔۔۔اپنے شغل میں مشغول اپنا کام کیے جا رہے تھے۔

ادھر کالا پانی چشمہ کی شراب طہور ہمیں دعوت نشہ دے رہی تھی۔ اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہم سب اس کی طرف لپکے۔ زمین کی اتھاہ گہرائیوں سے یا آسمانی بلندیوں سے۔۔۔ خدا جانے کہاں سے ۔۔یہ چشمہ دنیا والوں کی نظروں سے چھپتا چھپاتا بچتا بچاتا پہاڑ کے پتھروں کے بیچوں بیچ یہاں آ کر نمودار ہو رہا تھا ٹھنڈا یخ پانی عجب ذائقہ کا حامل ۔۔۔پانی کا رنگ اتنا گہرا تھا کہ سیاہی مائل معلوم ہو رہا تھا سب دوستوں نے اس پانی کو پیا۔ میں نے بھی پیا۔

عجب مے کا غضب ذائقہ تھا۔ چشمے کا پانی پہاڑوں کے بیچوں بیچ ۔۔اپنی گزر گاہوں میں سے مختلف دھاتوں کی آمیزش کرتا۔ ایک عجب ذائقہ ایک غضب مٹھاس اور ایک انوکھی خوشبو کا حامل تھا ۔۔۔اس کی ایک ایک سپ ایک ایک چسکیایک ایک گھونٹ تن من سرایت کر کے ایک نیا ولولہ ایک نئی لہر ایک نیا نشہ پیدا کر رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا ۔۔

کہیں دور سے بہت نیچے سے زمین کی عمیق گہرائیوں سے کسی بہشت بریں سے نکلنے والی۔ یہ نیلگوں سیاه دودھ اور شہد کی نہر ہے جسے ہم سیاه کاروں کے لئے اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔

شاید۔۔۔ اللّه پاک کو معلوم ہے کہ ان کے کرتوت تو کچھ ایسے بھی اچھے نہیں کہ آخر میں بہشتوں کے امیدوار بنیں۔ وہ چونکہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے اس لئے اس ذات رحیم و کریم نے اس دنیا میں ہی جنتوں میں بہنے والی اس شراب طہور کو ہم جیسے گناہ گاروں کے لئے بھیجا ہے۔ پیتے جاؤ ۔۔۔۔اور اس دنیا میں اس جنتی سوغات ۔ ۔ ۔ جنتی میوہ۔۔۔

اس جنتی مے کا مزہ لیتے جاؤ ہنزہ ویلی میں وہاں کے باسیوں نے التر پہاڑ کے چشمے کا پانی کنٹرول کر کے چھوٹی چھوٹی نہروں کے ذریعے پوری وادی میں اپنی فصلوں اور پینے کے لئے پہنچایا ہے مقامی زبان میں ان نہروں کو قل کہتے ہیں۔ مگر یہ تو قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ ایک انتہائی خفیہ تحفہ ہے۔

ایک پوشیدہ راز ہے ایک قلقل مینا ہے۔ایک گہری نیلگوں دودھ اور شہد کی میٹھی نہر ہے۔ آسماں پر بادل چھاۓ ہوئے تھے ہلکی پھلکی بوندا باندی ہو رہی تھی درختوں کے پتے اس سے دھل کر مزید صاف و شفاف ۔ ۔ ۔ مزید گہرے سبز ۔ ۔ مزید سبز و سیاہ لگ رہے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ قدرت ایک متشکل صورت میں ہمارے سامنے تشریف فرما تھی۔ درختوں سے اٹھنے والی بھینی بھینی خوشبو دل و دماغ کو معطر کر رہی تھی۔ شام کے ساۓ اور لمبے ہو گیے تھے۔ روشنی پہاڑ کی چوٹیوں تک مقید ہونا شروع ہو گیئ تھی۔

کچھ ٹریکر حضرات جو آگے وادی میں دو جنگہ کی جانب ٹریکنگ کے لئے گیے تھے اپنی اپنی سٹک ہاتھ میں تھامے واپس آ رہے تھے۔ چند مقامی لوگ اپنے مویشیوں کو ہانکتے اپنے اپنے گھروں کی جانب رواں دواں تھے۔ مگر ہمارا گائیڈ امان اللہ ابھی بھی ہمیں آگے چلنے کا کہ رہا تھا۔ ہم آگے کی جانب روانہ ہو گئے۔

امان اللہ کہ رہا تھا کہ۔۔۔ صاب آپ دو جنگہ چلیں آپ کو ادر ایسا مزہ آے گا کہ آپ زندگی بھر یاد رکھو گے۔ مگر کچھ ساتھی تھکاوٹ کا اکتاہٹ کا شکار نظر آنے لگے تھے۔ کچھ خوف زدہ سے لگنے لگے، کہ ہمارا پوٹر ہمیں آگے ویرانوں میں گہرے جنگلوں کی طرف کیوں لئے جا رہا ہے ؟

ایک اندیشہ ہاے دور دراز، ایک انجانا خوف،ان کے دلوں میں گھر کر گیا تھا۔

جاری ہے۔۔۔

تحریر: (خالِد حُسین)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.