بمقام کمرات ویلی - قسط نمبر4

بفرمائش ۔۔۔حنیف زاہد سید حسین علی گیلانی علی احمد طاہر ڈاکٹر فرخ بٹ ڈاکٹر عامر ستار اور لطیف خلجی اور شہزاد بھائی ارشاد ممتاز اعوان اختر جاوید ظفر علی مہم جو احسن مجید اور بہت سے دوسرے دوست چاۓ بن گیئ۔یہ چاۓ اسی دودھ کا شاخسانہ تھا جو کچھ دیر قبل امان اللہ گھنے جنگل سے پرے کسی آبادی سے لے کر آیا تھا.
میں نے اس سے دریافت کیا یہاں کون رہتا ہے ؟
اس نے کہا کہ یہاں میرا ماما رہتا ہے رات 8 بجے کے قریب دو لڑکے ہمارے قریب سے گزر کر جنگل میں موجود اسی آبادی کی طرف جا رہے تھے اپنا موٹر سائیکل انہوں نے دریا کے پار کھڑا کیا اور خود اسی لکڑی کے پل سے گزر کر آے تھے جب ان کا گزر ہمارے قریب سے ہوا ہمیں دیکھ کر ہم سے ملنے ہمارے قریب آے سلام دعا کے بعد کہنے لگے کہ ادھر ہمارا ماما رہتا ہے.

ماما دیکھنے کا مجھے بہت اشتیاق ہوا کے یار یہ سب کا ماما ہے یا سب کو ماما یعنی ماموں بناتا ہے یا پھر ماما کے لفظ کا استمال وسیع البنیاد ہے جیسے انگریزی کا لفظ انکل اپنے اندر وسعت کا حامل ہے جو بہت سے اپنے اور پراے رشتوں کو اپنے اندر سمو لیتا ہے کوئی لمبی چوڑی وضاحت نہیں دینا پڑتی صرف انکل کہنے سے کام چل جاتا ہے بالکل ایسے ہی کزن کا لفظ بھی ایسی ہی خصوصیات کا حامل ہے ۔۔۔۔مگر لفظ ماما کی خصوصیات کا کوئی ثانی نہیں ہے وہ پنجابی کا ایک محاورہ ہے ۔۔۔۔۔
توں ماما لگدا ایں ؟
یعنی یہ تیرا حق ملکیت ہے ؟
ماما وہ لفظ ہے جس ماں کا دو دفعہ ذکر آتا ہے یعنی دو دفعہ ماں کہیں تو ایک ماما بنتا ہے یعنی ایک ایسا رشتہ جو ماں سے دگنا پیارا اور بڑا ہے اب تو ہمارے ہاں بچے اپنی ماں کو بھی ماما کہتے ہیں  سب نے چاۓ شروع کر دی اور اپنے بیگ میں سے بسکٹ نکال نکال کر کھانا شروع کر دئے پھر سب نے اپنے اپنے دوائیوں والے شاپر نکال کر حسب منشا اپنی اپنی ضرورت کی گولیاں منتخب کیں کسی نے صرف پناڈول پر اکتفا کیا تو کسی نے ہیوی پن کلر تو کسی نے بلڈ پریشر کی تو کسی نے پیناڈول پین کلر اور بلڈ پریشر تینوں کا اکٹھا استمعال کیا.گولی اندر تھکاوٹ جلندھر کے مصداق سب ریفریش ہو کر آنے والے دن کے لئے تیار ہو گیے ۔۔۔

پچھلی رات وادی کمرات میں ہم نے پہلا پڑاؤ نیچے پہلے ٹینٹ ویلج میں کیا تھا ہماری لاڈلی لاڈو رانی (جیپ) کے نخروں کی وجہ سے ہم ذرا لیٹ یہاں پہنچے تھے ٹینٹ کراۓ پر لیا ان دنوں کمرات میں کوئی فیسٹول چل رہا تھا۔ ہر طرف چکا چوند روشنیوں کی بہار اونچی آواز میں میوزیک چل رہا تھا  مختلف علانات ہو رہے تھے  ہر طرف شور برپا تھا  نعرے بازی ہو رہی تھی ادھر بھوک بھی زوروں پر تھی
ٹینٹ مالک کو کھانے کا آرڈر دیا اپنے بیگ اپنے ٹینٹ میں منتقل کئے کھانا کھایا اور بہت جلد ہی ڈاکٹر شاہد صاحب زور دار اور دھماکے دار خراٹوں کے باوجود نیند کی آغوش میں چلے گیے صبح جب میری آنکھ کھلی تو کوئی پونے پانچ کا وقت ہو گا

ہر طرف خاموشی اور سکون تھا ڈاکٹر شاہد صاحب کے خراٹے بھی شاید اب چل چل کر گھس گھس کر رواں ہو گیے تھے ان میں اب رات والی تندی اور کاٹ نہ تھی اب سسٹم سموتھ چل رہا تھا۔ اس انسانوں کی بستی سے میرا پہلا تعارف اس وقت ہوا جب میں نے اپنے ٹینٹ سے اپنا پہلا قدم باہر نکالا ہر طرف بسکٹوں اور دودھ کے خالی ڈبوں کے ریپر خالی بوتلیں جانوروں کی ہڈیاں کوئلے کے ٹکڑے۔
سگریٹ کی خالی ڈبیاں اور استمعال شدہ سگریٹ کے ٹوٹے جا بجا بکھرے ہوئے ملے میرے صبح نو کا سارا مزہ کرکرہ ہو گیا ہم خود تو صفائی ستھرائی اور خوب صورتی کے دئے جلانے ان وادیوں اور پہاڑوں کی طرف پدھارتے ہیں مگر وہاں جا کے گندگی کے ڈھیر لگا دیتے ہیں ہم دوسروں سے یہ توقع رکھتے ہیں وہ صفائی ستھرائی دیکھائیں گندگی نہ پھیلائیں مگر خود آوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کے مصداق خود صفائی ستھرائی سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔ انسان حیوان ناطق ہے میں حیوان کا لفظ پہلے استمعال ہوا ہے یہاں پر کم از کم حیوانی پہلو انسانی پہلو پر غالب نظر آیا۔
یہ خواہش رنگ و بو
یہ دیوانگی
یہ خوب صورتی
یہ خوب صورت نظر آنا
یہ خوب صورتی کو پسند کرنا
صفات خدا وندی میں سے ایک صفت ہے۔ یہی خواہش رنگ و بو یہی دیوانگی اور یہی جذبہ و جنوں انسانوں کو کہاں کہاں نہیں لے جاتی۔
اس کی تکمیل کی خواہش اسے جنگلوں بیابانوں اور ویرانوں ٹک جا پہنچاتی ہے۔جہاں پر انسان اور قدرت قدرت خدا وندی قدرت کاملہ سے مکالمہ شاید زیادہ قریب اور زیادہ آسان آسان گردانتا ہے تبھی تو انسان کبھی جوگی اور یوگی بن کر ان جنگلوں اور بیابانوں کا رخ کرتا ہے ان کو پوجتا اور یوجتا ہے اپنا مدعا کرنے کا اسے ایک ذریعہ گردانتا ہے کبھی مہاتما بدھ کی طرح آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر انھیں جنگلوں میں نروان کی تلاش کا متمنی رہا ہے
سپیدہُ سحر کی نوری لاٹ پہاڑوں کی چوٹیوں پر پڑنا شروع ہو گیئ چند ایک اشخاص دریا کنارے پر بہتے ہوئے ٹھنڈے ٹھار دریا کے پانی سے وضو کر رہے تھے تو چند یاد خداوندی میں مصروف نظر آے۔ چند کوے جا بجا بکھری فالتو اشیا میں اپنا رزق تلاش کرنے لگے بھیگی بھیگی رات کی مست ادائیں اپنا دامن سمیٹنے لگیں میں بھی دریا کے کنارے کنارے کی طرف چل پڑا.

(خالِد حُسین)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.